کیپاڈوشیا
کیپاڈوشیاکے نام سے معروف خطے میں, Goreme, Avanos, Uchisar, DerinkuruاورIhlaraکے علاقے شامل ہیں۔یہ ایک قابلِ دید علاقہ ہے جس میں تخیل کو بیدار کردینے والی پہاڑیاں،زیرِ زمین چرچ اور گھرہیں اور یہ ایک بڑے علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔یہ خطہ قالینوں کی بنائی،وائن اورAvanosکی منفرد سرخ سرامک کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ کیپاڈوشیا دنیا کے ان پہلے عیسائیوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ تھا جو مظالم سے بھاگ کر وہاں پہنچے اور زیرِ زمین عبادت کا سلسلہ شروع کیا۔اس خطے میںچٹانوں سے بنے ہوئے تقریباً3000چرچ ہیں جن میں عوام کا داخلہ ممنوع ہے۔
Goremeقصبہ خطے کی سیاحت کی صنعت کا دل ہے اور یہاں کے زیادہ تر باشندے اب بھی غاروں میں بنے ہوئے گھروں میں رہتے ہیں۔ان میں سے بعض گھروں کو حویلیوں کی شکل دے دی گئی ہے۔یہاں چٹانوں کا ایک خوابناک سلسلہ ہے جسےPeriBacalariیا ”پرستان کی چمنیاں“کہا جاتا ہے۔
Nigdeکے مغرب میںIhlaraوادی ہے جو کہ10کلومیٹرلمبا اور80کلومیٹر چوڑا پرکشش راستہ ہے۔یہاں پیدل پہاڑیوں پر چڑھنا بہت مقبول ہے اور اس علاقے میں60چرچ ہیں جن میںEgritasچرچ بھی شامل ہے۔ان میں سے12چرچ سیاحوں کیلئے کھلے ہیں۔
اس علاقے میں سینکڑوں زیرِ زمین رہائشی علاقے ہیں۔ان میں سے سب سے پُرکششKaymakliہے جس کے8حصے ہیں اورDerinkuyuجو55میٹر زیرِ زمین جاتا ہے۔انہیں ان عیسائیوں نے استعمال کیا تھا جو ساتویں صدی عیسوی میں مظالم سے فرار ہو کریہاں آئے۔اورانہوں نے یہاں خود کو محفوظ رکھنے کا ماحول تیار کیا جس میں ان کے بیڈرومز،کچن اورگودام شامل تھے۔
تاریخ
اس علاقے میں آنے والے تمام لوگ بشمول Hittites،Phrygians،ایرانی،رومن،بازنطینی،سلجوق اور ان کے بعدHattisیہ تمام لوگ کیپاڈوشیا کے حسن کے جادو میں گرفتار ہو گئے اور وہ یہاں اپنی موجودگی کی یادگاریں چھوڑ گئے جن میںاہم شاہراہِ ریشم بھی شامل ہے جومشرقی،مغربی،شمالی اور جنوبی علاقوںکو ملاتی ہے۔اتنی زیادہ نقل و حرکت کی وجہ سے یہ خطہ پیچیدہ تاریخی اور ثقافتی اثرات کی آماجگاہ بن گیا۔کیپاڈوشیا ایک ایسا خطہ تھا جہاں مختلف فلسفے یکجا ہوئے اور ایک دوسرے سے استفادہ کیا۔چٹانوں میں تراشے گئے چرچ اور گھر جن میں پر خوبصورت نقش و نگار بنے ہیں یہIhlaraوادی تک چلے گئے ہیں جوAksarayشہر سے140کلومیٹر اورSelimeگاﺅں سے14کلومیٹر دورہے۔ان میں سے کچھ عمارتیںچوتھی صدی عیسوی سے تعلق رکھتی ہیں۔سیاحتی مقامات میںEgritas, AgaçAlti, Kokar, Yilanli, Pürenli, Kirkdamalti, Ala, Direkli, Kale Monatery church اورSelime Cathedralدیکھنے کے لائق ہیں۔
اپنے محلِ وقوع کے لحاظ سے،کیپاڈوشیا ایک قیمتی اور دفاعی اہمیت کا خطہ ہے۔اس کے پرکشش وسائل اور تجارت کی وجہ سے یہ خطہ بیرونی حملوں اور لوٹ مار کا نشانہ بنا۔ایسی لوٹ مار سے بچنے اور ان غیرملکیوں کو روکنے کے لئے جو انہیں پہچان کر نقصان پہنچاتے تھے،مقامی آبادی نے ایسے غاروں میں رہنا شروع کیا جن کے داخلی راستے خفیہ رکھے جاتے تھے۔اس سے وہ خود کو لوگوں کی نظروں میں آنے سے بچاتے تھے۔تاہم بعد میں یہ غاروں والے گھر زیرِ زمین شہروں میں تبدیل ہو گئے جن کے اپنے پانی کے ذخائر،خوراک کے گودام،شراب خانے اور مندر تھے۔ان میں سے کچھ تو عیسائیت کی آمد سے بھی قدیم ہیں۔
کون سے علاقے دیکھنے چاہئیں


Uçhisar
یہ قصبہNevsehirسے 7کلومیٹر دور ہے اور اپنے شاندار نظاروں کی بدولت ایسی کشش رکھتا ہے کہ سیاح خود کو اسے دیکھنے سے روک نہیں پاتے۔جب آپÜçhisarقلعے کی بلندیوں سے اس کا نظارہ کرتے ہیں تو آپ کو اس جنت نظیر خطے کا شاندار منظر دکھائی دیتا ہے۔


Göreme
یہ علاقہ جو کہNevsehirسے10کلومیٹر دور ہے اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں رومن دور میںAvanosباشندوں نے قبرستان آباد کیا تھا۔Göremeکو عام طور پر ”یقین کا مرکز“ کہا جاتا ہے۔Göremeاوپن ائر عجائب گھر اس علاقے میں واقع ہے جہاںSt.Basilاور اس کے بھائیوں نے”وہ تعلیمی نظام شروع کیا جس نے عیسائیت کے تمام تصورات کو یکجا کیا“۔اس کا فن اور نقاشی آج بھی زندگی سے بھرپور دکھائی دیتی ہیں جیسے کہ انہیںTokali church, Monastry of Priest
and Nuns, St.Basil Chapel, Elmali, YilanliاورÇarikli Churchesمیں تازہ تعمیر کیا گیا ہے۔


Ürgüp
یہ علاقہGöremeکے قریب ہے جو کہ اپنی وائنس،تاریخی مقامات اور قدرتی خوبصورتی کے باعث مشہور شہر ہے۔وائن جو کہ آپ کوروایتی برتن یا ایک خوبصورت کرسٹل کے پیالے میں پیش کی جائے گی وہ آپ کے لئے ایک ناقابلِ فراموش تجربہ ہو گا۔اگرچہ کچھ وائن بنانے والوں نے جدید تکنیکس کا استعمال شروع کر دیا ہے،کچھ لوگ ابھی تک پرانے مگر آزمودہ طریقوں سے جڑے ہوئے ہیں۔


Mustafapasa
Mustafakemalpasa (Sinasos) جوکہÜrgüpسے 7کلومیٹر جنوب میں ہے اپنے پتھر کے کام کی وجہ سے مشہور ہے۔St.Basil Chapelکو ایسے طریقوں سے سجایا گیا ہے جوiconoclasticنظریے کی جھلک ہیں۔AvanosجوکہNevsehirسے18کلومیٹر دور ہے وہاں Hittiteکے دور کی برتن سازی کا فن آج بھی زندہ ہے۔